ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ملکی سیاست میں دم خم کے ساتھ دخل دینے کاآگیاہے وقت:جے ڈی آر

ملکی سیاست میں دم خم کے ساتھ دخل دینے کاآگیاہے وقت:جے ڈی آر

Sat, 06 Aug 2016 18:29:02    S.O. News Service

پٹنہ6اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا) آج ہندوستان میں پوری امت مسلمہ گروہی، ذاتی اور مسلکی عصبیت کی بنیاد پر منتشر اور غیر منظم ہو کر بے وزن اور بے حیثیت ہوگئی ہے۔ قومی سطح پر اس کاکوئی رہنما نہیں ہے اور نہ ہی پوری قوم کسی ایک شخص کی قیادت کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہے۔جنتا دل راشٹروادی کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنما اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ پہلے ہم اللہ کو اور اللہ کی ، محمدؐ کو اور محمدکی ، قرآن کو اور قرآن کی مانتے تھے لیکن آج اللہ ، محمدؐ اور قرآن کو مانتے ہیں کی نہیں مانتے۔یہی سبب ہے کہ ہم عمل سے دور ہوتے جارہے ہیں اور ملت کے اندر تفرقہ، ذات برادری ، مسلکی جھگڑے اس قدر طول پکڑ گئے ہیں کہ اتحاد کی صورت نظر ہی نہیں آتی۔ جب ہم اللہ ، محمدؐ اور قرآن کی مانتے تھے تو چند کی تعداد میں ہونے کے باوجود کروڑوں پرحکمرانی کرتے تھے اور بڑی ہی ایمانداری کے ساتھ حکومت کی مثال پیش کی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اپنے آپ میں ہی ایماندار نہیں رہے۔ مسلم لیڈران کے اندر حسد، جلن نے ایک دوسرے کو حریف بناد یا ہے اورہر چھوٹے پیمانے پرایک دوسرے کے اندر عیب نکالنا ان کا شغل بن گیا ہے۔ عوام لیڈر چننے کے بجائے خود رہنما بن بیٹھی ہے۔ لیکن مصلحت کے بجائے بزدلی کی چادر اوڑھ کر اسلام اور مسلم مخالف ہرکارروائی کو برداشت کرنے پر آمادہ ہے۔ نتیجتاً پورا کا پورا معاشرہ ختم ہونے کی دہلیز پر ہے۔ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ اسپین کی طرز پر اسلام ہندوستان سے اٹھ جائے گا۔ ایسے بھی زعفرانی میڈیا اسلام کی شبیہ کو بڑے قاعدے سے مسخ کررہا ہے۔ اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ بابا دھام میں برقعہ پوش خواتین کو دکھا کر مسلم معاشرہ میں تبدیلی کا دعویٰ کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت یہی نہیں ہے۔ دراصل ہماری نئی نسل اپنی مادری زبان اردو سے دور ہوتی جارہی ہے اور وہ ہندی اخبار پڑھتی ہے اور ہندی میڈیا کو دیکھتی ہے۔ جس میں صرف اور صرف مسلمانوں کی برائی ہی دکھائی جاتی ہے۔ایک ڈھیلا بھی کوئی اٹھا لے تو اسے آتنک وادی قرار دے دیاجاتا ہے اور ہم ہیں کہ صرف زبانی جمع خرچ سے آگے کچھ نہیں کررہے ہیں۔ ہر حال میں ہمیں متحد ہونا پڑے گا۔ تمام جھگڑے ، تفرقہ کو فراموش کر آگے بڑھنا ہوگا۔ جب تک مسلمان سیاست میں آگے نہیں آئیں گے تبدیلی کی امیدکم ہی ہے۔ ملکی سیاست میں پورے دم خم کے ساتھ دخل دینے کاوقت آگیاہے۔ حالات ناگزیرہیں اورہم اب بھی خاموش تماشائی بنے رہے تو ہمارا اس ملک سے وجود مٹ جائے گا۔وجودمٹانے کی کوششیں چہار جانب سے منظم طور پر ہورہی ہیں۔ تو آیئے اتحاد اور حالات کو بدلنے کی پہل تیزکریں۔ 


Share: